پٹنہ،13/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بہارمیں سیلاب کی صورتحال کافی سنگین ہے۔ ارریہ، پورنیہ اور کشن گنج کے ساتھ ساتھ کٹیہار کا کچھ حصہ بری طرح سیلاب کی زدمیں ہے۔ اس کے علاوہ سیمانچل، مشرقی چمپارن اور مغربی چمپارن کے کچھ علاقے بھی سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں۔شمالی بہار اور نیپال کے ترائی علاقوں میں گزشتہ تین دنوں سے مسلسل ہو رہی بارش کے وجہ سے غیر متوقع سیلاب ہوگیاہے جس سے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔سیلاب سے بے حال کشن گنج، ارریہ، پھوربسگج، جوگبنی اور مغربی چمپارن کے نرکٹیاگنج میں پانی گھروں میں گھس گیاہے۔ معمولات زندگی مکمل طور پرمتاثرہیں، مکان اور گاڑیاں سب پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں،بہت سے لوگ اپنے گھروں میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔این ڈی آرایف کی ٹیمیں لوگوں کو ریسکیو کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔وزیراعلیٰ نتیش کمار نے سیلاب کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر دفاع ارون جیٹلی سے فون پر بات چیت کرکے فوج اور فضائیہ کی مدد مانگی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے این ڈی آرایف کی 10 اضافی ٹکڑیوں کا مطالبہ ہے۔ راحت اور بچاؤ کے لئے ایئر فورس کے ہیلی کاپٹر کی تعیناتی کی درخواست کی ہے۔بہارکے چیف سکریٹری انجنی کمار سنگھ نے بتایا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں میں غیر متوقع بارش ہوئی ہے۔ اگر تمام اعداد و شمار کو شامل کر دیا جائے تو تقریبا دو فٹ تک پانی بارش کی وجہ سے ہی ہے، پانی ہونے سے ہی صورت حال خراب رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ریسکیو کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، پورنیہ ائیر بیس سے متاثر علاقوں میں فوڈ پیکٹ بھی گرائے جا رہے ہیں۔چیف سکریٹری نے کہا کہ سیمانچل کے ساتھ ساتھ شمالی بہار کے کئی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بنا ہوا ہے۔ نیپال میں بھاری بارش کی وجہ سے یہ صورتحال آئی ہے۔ گنڈک ندی کے بالمیکی نگر براج ریکارڈ پانی چھوڑا گیا ہے، علاقوں کے کئی بلاکوں کا ضلع کواٹر سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے،سیلاب کی وجہ سے ریل ٹریفک بھی متاثر ہوا ہے، بہت سی گاڑیوں کو منسوخ کر دیا ہے یا پھر اسے ڈائیورٹ کر دیا ہے، تمام ضلع کے انچارج وزراء کو علاقے میں تعینات رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔